کلکتہ،18؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے قافلے پر حملے کے بعد مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان جاری تنازع کے درمیان ایک بار پھر مرکزی حکومت نے آج مغربی بنگال حکومت اور ڈی جی پی کو ایک نیا خط بھیج کر کہا ہے کہ آئی پی ایس کیڈر کے سیکشن 6 (1)کے مطابق 3آئی پی ایس افسروں کو فوراً ریلیز کریں اور اگر اس خط پر عمل نہیں کیا گیا تو مرکزی حکومت اپنے طور پر فیصلہ کرے گی۔
مرکزی وزارت داخلہ نے اس سے قبل مغربی بنگال حکومت سے کہا تھا کہ3 آئی پی ایس افسروں راجیو مشرا، پروین ترپاٹھی اور بھولا ناتھ پانڈے کو فوری طور پر مرکزی حکومت کے ڈیپوٹیشن پر ریلیز کریں۔ مرکزی وزارت داخلہ کے خط پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکزی حکومت کی ہدایت طاقت کا بے جا استعمال کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور آئی پی ایس کیڈر رول 1954 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ممتا بنرجی نے لگاتار کئی ٹوئیٹ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی سخت تنقید کی ہے۔ممتا بنرجی نے لکھا ہے کہ مرکزی حکومت کے اقدامات ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار کو پامال کرنے اور مغربی بنگال میں تعینات آئی پی ایس افسروں کوپریشان کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔مرکزی حکومت لگاتار وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے۔ممتا بنرجی نے مرکز کا یہ قدم غیر آئینی اور مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔
ممتا بنرجی نے لکھا ہے کہ ہم مرکزی حکومت ریاستی مشینری کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے مگر ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے اورمغربی بنگال توسیع پسند اور غیر جمہوری قوتوں کے سامنے گھبرانے والا نہیں ہے۔وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے3 آئی پی ایس افسروں بھولا ناتھ پانڈے، راجیو مشرا اور پروین ترپاٹھی کو پانچ سال کیلئے ڈیپوٹیشن پر طلب کیا ہے۔بی پی آر ڈی ایس پی کے طور پر بھولا ناتھ پانڈے، ایس ایس بی کے ڈی آئی جی کے طور پر پروین ترپاٹھی، آئی ٹی بی پی آئی جی کے طور پر راجیو مشرا کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ تینوں افسروں کو فوری طور پر اپنی اپنی پوسٹنگ پر اطلاع دینا ہے یا پھر انھیں مزید کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔